@youssouf.co: #200k *_❤️🔥♥️♥️♥️♥️♥️♥️

coulibaly. y
coulibaly. y
Open In TikTok:
Region: IT
Tuesday 18 November 2025 18:09:45 GMT
204914
18467
467
631

Music

Download

Comments

00223.82.46.14.71
INA223🇲🇫82🇮🇹46🇪🇸14🇮🇪71 :
2025-11-20 03:53:20
5
danielirina6
Hans Ticha :
ou va les monde 😭😭😭😭
2025-11-20 21:26:33
2
user8199860655395alidou
Alidou :
Bonjour
2025-11-26 11:31:31
0
fah.sangare26
Fah Sangare :
Merci Bien salut 222222
2025-11-28 19:26:15
0
sidikzinaba
SIDIKI :
👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍❤️❤️❤️❤️❤🙏
2025-11-19 10:17:57
9
user84888785799443
dianko sella :
4444
2025-11-25 21:17:43
1
nadia.52013
Sam Sanogo :
leur parents est sur tiktok ?
2025-11-19 19:47:36
4
kuelasoubil0
la solution 225 :
ou son c'est jolie demoiselle❤
2025-11-19 22:03:36
3
user2230147507756
user2230147507756 :
Hi
2025-11-19 20:10:42
2
mohamedkoumare09
Mohamed koumare 61035555 :
cool
2025-11-21 10:21:32
1
srhcrtugce
@moussa@agalimoussa :
Moussa 😆😆😆
2025-11-19 21:43:17
0
bachiachiro0
bachirobachiro840 :
ok
2025-11-19 19:19:44
2
user67777403577128
Viux Sidibé :
yes 💓💓
2025-11-26 21:47:07
0
user6665026747426
BOUBE :
oui
2025-11-29 19:54:38
0
user2290059226824
Seydou dembele :
111😃
2025-11-24 17:58:20
0
user6345345179120
yussufbouba :
merci
2025-11-27 22:53:19
0
chiekmoktar587tiktok.co1
cheikmoktr587 :
88888
2025-11-19 16:22:09
2
papapapa0428
Papa Paparazzi :
bsr
2025-11-27 12:39:00
0
user212344874348
user212344874348 :
Hi
2025-11-20 18:15:46
1
marckkeita7
Marcko :
waouh
2025-11-25 19:08:38
0
harounabougman
faso biiga :
salut très cool.
2025-11-19 16:32:14
1
seydoudiarra1946
Mamadou diawara :
🥰cool
2025-11-20 08:13:09
2
petit.boss.2243
petit boss 224 :
yes
2025-11-23 13:49:03
0
user8421868276185
98397871 :
no
2025-11-28 11:19:22
0
senisore2222
sore seni :
bonsoir
2025-11-29 21:35:37
0
To see more videos from user @youssouf.co, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کیا آپ نے شداد کی جنت کے متعلق کبھی پڑھا ہے نہیں تو آئے آپ کو آج شداد کی جنت کے متعلق کیا آپ نے شداد کی جنت کے متعلق کبھی پڑھا ہے نہیں تو آئے آپ کو آج شداد کی جنت کے متعلق کچھ دلچسپ و عجیب بتاتے ہیں۔ قوم ارم ان لوگوں کا تعلق قوم عاد سے تھا اور وہ ارم نام کی بستی کے رہنے والے تھے۔ وہ بستی بڑے بڑے ستونوں والی تھی. عماد جمع ہے عمد کی اور عمد کے معنی ستون کے ہیں۔ عاد کے نام سے دو قومیں گزری ہیں۔ ایک کو عاد قدیمہ یا عاد ارم کہتے ہیں۔ یہ عاد بن عوض بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں سے تھے۔ ان کے دادا کی طرف منسوب کرکے ان کو عاد ارم بھی کہا جاتا ہے۔ اپنے شہر کا نام بھی انھوں نے اپنے دادا کے نام پر رکھا تھا۔ ان کا وطن عدن سے متصل تھا۔ ان کی طرف حضرت بود علیہ السلام مبعوث کیے گئے تھے لیکن قوم عاد کی بد اعمالیوں کے سبب جب انھیں تباہ کردیا گیا تو حضرت ہود علیہ السلام حضر موت کی طرف مراجعت کر گئے۔ ان کی رہائش احقاف کے علاقے میں تھے۔ حضرت بود کی وفات یہیں پر بولی احقاف میں بسنے والی اس قوم نے بہت ترقی کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو غیر معمولی قد و قامت اور قوت عطا فرمائی تھی۔ ان میں ہر شخص کا قد کم از کم باره گز کا ہوتا تھا۔ طاقت کا یہ حال تھا کہ بڑے سے بڑا پتھر جس کو کئی آدمی مل کر بھی نہ اٹھا سکیں، ان کا ایک آدمی ایک ہاتھ سے اٹھا کر پھینک دیتا تھا۔ یہ لوگ طاقت و قوت کے بل بوتے پر پورے یمن پر قابض ہوگئے۔ دو بادشاہ خاص طور پر ان میں بہت جاہ جلال والے ہوئے۔ وہ دونوں بھائی تھے۔ ایک کا نام شدید تھا جو بڑا تھا۔ دوسرے کا نام شداد تھا جو اس کے بعد تخت نشین ہوا۔ یہ دونوں وسیع علاقے پر قابض ہوگئے اور بے شمار لشکر و خزانے اُنھوں نے جمع کر لیے تھے۔ عادارم کا قصہ شداد نے اپنے بھائی شدید کے بعد سلطنت کی رونق و کمال کو عروج تک پہنچایا۔ دنیا کے کئی بادشاہ اسکے باج گزار تھے۔ اس دور میں کسی بادشاہ میں اتنی جرات و طاقت نہیں تھی کہ اس کا مقابلہ کرسکے۔ اس تسلط اور غلبہ نے اس کو اتنا مغرور و متکبر کردیا کہ اس نے خدائی کا دعوی کردیا۔ اس وقت کے علما و مصلحین نے جو سابقہ انبیا کے علوم کے وارث تھے، اسے سمجھایا اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو وہ کہنے لگا، جو حکومت و دولت اور عزت اس کو اب حاصل ہے، اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے کیا حاصل ہوگا؟ جو کوئی کسی کی خدمت و اطاعت کرتا ہے یا تو عزت و منصب کی ترقی کے لیے کرتا ہے یا دولت کے لیے کرتا ہے، مجھے تو یہ سب کچھ حاصل ہے، مجھے کیا ضرورت کہ میں کسی کی عبادت کروں؟ حضرت بود نے بھی اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن بی شود سمجھانے والوں نے یہ بھی کہا کہ یہ حکومت و دولت ایک فانی چیز ہے جبکہ اللہ کی اطاعت میں اخروی نجات اور جنت کا حصول ہے جو دنیا کی ہر دولت سے بہتر اور زیادہ قیمتی ہے۔ اس نے پوچھا، یہ جنت کیسی ہوتی ہے ؟ اس کی تعریف اور خوبی بتاؤ نصیحت کرنے والوں نے جنت کی وہ صفات جو انبیائے کرام کی تعلیمات کے ذریعے ان کو معلوم ہوئی تھیں، اس کے سامنے بیان کیں تو اس نے کہا مجھے اس جنت کی ضرورت نہیں ایسی جنت تو میں خود دنیا ہی میں بنا سکتا ہوں۔ شداد کی جنت چناچہ اس نے اپنے افسروں میں سے ایک سو معتبر افراد کو بلایا بر ایک کو ایک ہزار آدمیوں پر مقرر کیا اور تعمیر کے سلسلے میں ان سب کو اپنا نکتہ نظر اور پسند سمجھا دی۔ اس کے بعد پوری دنیا میں اس کام کے ماہرین کو عدن بھجوانے کا حکم دیا۔ علاوہ ازیں اپنی قلمرو میں سب حکمرانوں کو یہ حکم دیا کہ سونے چاندی کی کانوں سے اینٹیں بنوا کر بھیجیں اور کوہ عدن کے متصل ایک مربع شہر (جنت) جو دس کوس چوڑا اور دس کوس لمبا ہو بنانے کا حکم دیا۔ اس کی بنیادیں اتنی گہری کھدوائیں کہ پانی کے قریب پہنچا دیں پھر ان بنیادوں کو سنگ سلیمانی سے بھروادیا۔ جب بنیادیں بھر کر زمین کے برابر ہوگئیں تو ان پر سونے چاندی کی اینٹوں کی دیواریں چنی گئیں۔ ان دیواروں کی یلندی اس زمانے کے گز کے حساب سے سو گز مقرر کی گئی۔ جب سورج نکلتا تو اس کی چمک سے دیواروں پر نگاہ نہیں ٹھہرتی تھی۔ یوں شہر کی چاردیواری بنائی گئی۔ اس کے بعد چار دیواری کے اندر ایک ہزار محل تعمیر کیے گئے، ہر محل ایک ہزار ستونوں والا تھا اور بر ستون جواہرات سے جڑاؤ کیا ہوا تھا۔ پھر شہر کے درمیان میں ایک نہر بنائی گئی اور بر محل میں اس نہر سے چھوٹی چھوٹی نہریں لے جائی گئیں۔ بر محل میں حوض اور فوارے بنائے گئے۔ ان نہروں کی دیواریں اور فرش یاقوت زمرد مرجان اور نیلم سے سجادی گئیں۔ نہروں کے کناروں پر ایسے مصنوعی درخت بنائے گئے جن کی جڑیں سونے کی شاخیں اور پتے زمرد کے تھے۔ ان کے پھل موتی ویاقوت اور دوسرے جواہرات کے بنواکر ان پر ٹانک دیے گئے۔ wait for next part ☺️  #allah #islamic_video #grow #fyp #creatorsearchinsights
کیا آپ نے شداد کی جنت کے متعلق کبھی پڑھا ہے نہیں تو آئے آپ کو آج شداد کی جنت کے متعلق کیا آپ نے شداد کی جنت کے متعلق کبھی پڑھا ہے نہیں تو آئے آپ کو آج شداد کی جنت کے متعلق کچھ دلچسپ و عجیب بتاتے ہیں۔ قوم ارم ان لوگوں کا تعلق قوم عاد سے تھا اور وہ ارم نام کی بستی کے رہنے والے تھے۔ وہ بستی بڑے بڑے ستونوں والی تھی. عماد جمع ہے عمد کی اور عمد کے معنی ستون کے ہیں۔ عاد کے نام سے دو قومیں گزری ہیں۔ ایک کو عاد قدیمہ یا عاد ارم کہتے ہیں۔ یہ عاد بن عوض بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں سے تھے۔ ان کے دادا کی طرف منسوب کرکے ان کو عاد ارم بھی کہا جاتا ہے۔ اپنے شہر کا نام بھی انھوں نے اپنے دادا کے نام پر رکھا تھا۔ ان کا وطن عدن سے متصل تھا۔ ان کی طرف حضرت بود علیہ السلام مبعوث کیے گئے تھے لیکن قوم عاد کی بد اعمالیوں کے سبب جب انھیں تباہ کردیا گیا تو حضرت ہود علیہ السلام حضر موت کی طرف مراجعت کر گئے۔ ان کی رہائش احقاف کے علاقے میں تھے۔ حضرت بود کی وفات یہیں پر بولی احقاف میں بسنے والی اس قوم نے بہت ترقی کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو غیر معمولی قد و قامت اور قوت عطا فرمائی تھی۔ ان میں ہر شخص کا قد کم از کم باره گز کا ہوتا تھا۔ طاقت کا یہ حال تھا کہ بڑے سے بڑا پتھر جس کو کئی آدمی مل کر بھی نہ اٹھا سکیں، ان کا ایک آدمی ایک ہاتھ سے اٹھا کر پھینک دیتا تھا۔ یہ لوگ طاقت و قوت کے بل بوتے پر پورے یمن پر قابض ہوگئے۔ دو بادشاہ خاص طور پر ان میں بہت جاہ جلال والے ہوئے۔ وہ دونوں بھائی تھے۔ ایک کا نام شدید تھا جو بڑا تھا۔ دوسرے کا نام شداد تھا جو اس کے بعد تخت نشین ہوا۔ یہ دونوں وسیع علاقے پر قابض ہوگئے اور بے شمار لشکر و خزانے اُنھوں نے جمع کر لیے تھے۔ عادارم کا قصہ شداد نے اپنے بھائی شدید کے بعد سلطنت کی رونق و کمال کو عروج تک پہنچایا۔ دنیا کے کئی بادشاہ اسکے باج گزار تھے۔ اس دور میں کسی بادشاہ میں اتنی جرات و طاقت نہیں تھی کہ اس کا مقابلہ کرسکے۔ اس تسلط اور غلبہ نے اس کو اتنا مغرور و متکبر کردیا کہ اس نے خدائی کا دعوی کردیا۔ اس وقت کے علما و مصلحین نے جو سابقہ انبیا کے علوم کے وارث تھے، اسے سمجھایا اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو وہ کہنے لگا، جو حکومت و دولت اور عزت اس کو اب حاصل ہے، اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے کیا حاصل ہوگا؟ جو کوئی کسی کی خدمت و اطاعت کرتا ہے یا تو عزت و منصب کی ترقی کے لیے کرتا ہے یا دولت کے لیے کرتا ہے، مجھے تو یہ سب کچھ حاصل ہے، مجھے کیا ضرورت کہ میں کسی کی عبادت کروں؟ حضرت بود نے بھی اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن بی شود سمجھانے والوں نے یہ بھی کہا کہ یہ حکومت و دولت ایک فانی چیز ہے جبکہ اللہ کی اطاعت میں اخروی نجات اور جنت کا حصول ہے جو دنیا کی ہر دولت سے بہتر اور زیادہ قیمتی ہے۔ اس نے پوچھا، یہ جنت کیسی ہوتی ہے ؟ اس کی تعریف اور خوبی بتاؤ نصیحت کرنے والوں نے جنت کی وہ صفات جو انبیائے کرام کی تعلیمات کے ذریعے ان کو معلوم ہوئی تھیں، اس کے سامنے بیان کیں تو اس نے کہا مجھے اس جنت کی ضرورت نہیں ایسی جنت تو میں خود دنیا ہی میں بنا سکتا ہوں۔ شداد کی جنت چناچہ اس نے اپنے افسروں میں سے ایک سو معتبر افراد کو بلایا بر ایک کو ایک ہزار آدمیوں پر مقرر کیا اور تعمیر کے سلسلے میں ان سب کو اپنا نکتہ نظر اور پسند سمجھا دی۔ اس کے بعد پوری دنیا میں اس کام کے ماہرین کو عدن بھجوانے کا حکم دیا۔ علاوہ ازیں اپنی قلمرو میں سب حکمرانوں کو یہ حکم دیا کہ سونے چاندی کی کانوں سے اینٹیں بنوا کر بھیجیں اور کوہ عدن کے متصل ایک مربع شہر (جنت) جو دس کوس چوڑا اور دس کوس لمبا ہو بنانے کا حکم دیا۔ اس کی بنیادیں اتنی گہری کھدوائیں کہ پانی کے قریب پہنچا دیں پھر ان بنیادوں کو سنگ سلیمانی سے بھروادیا۔ جب بنیادیں بھر کر زمین کے برابر ہوگئیں تو ان پر سونے چاندی کی اینٹوں کی دیواریں چنی گئیں۔ ان دیواروں کی یلندی اس زمانے کے گز کے حساب سے سو گز مقرر کی گئی۔ جب سورج نکلتا تو اس کی چمک سے دیواروں پر نگاہ نہیں ٹھہرتی تھی۔ یوں شہر کی چاردیواری بنائی گئی۔ اس کے بعد چار دیواری کے اندر ایک ہزار محل تعمیر کیے گئے، ہر محل ایک ہزار ستونوں والا تھا اور بر ستون جواہرات سے جڑاؤ کیا ہوا تھا۔ پھر شہر کے درمیان میں ایک نہر بنائی گئی اور بر محل میں اس نہر سے چھوٹی چھوٹی نہریں لے جائی گئیں۔ بر محل میں حوض اور فوارے بنائے گئے۔ ان نہروں کی دیواریں اور فرش یاقوت زمرد مرجان اور نیلم سے سجادی گئیں۔ نہروں کے کناروں پر ایسے مصنوعی درخت بنائے گئے جن کی جڑیں سونے کی شاخیں اور پتے زمرد کے تھے۔ ان کے پھل موتی ویاقوت اور دوسرے جواہرات کے بنواکر ان پر ٹانک دیے گئے۔ wait for next part ☺️ #allah #islamic_video #grow #fyp #creatorsearchinsights

About