@crystalclicks1: ہر شخص تمہارا درد سننے والا نہیں ہوتا، کچھ لوگ صرف کہانی جمع کرتے ہیں، تاکہ اگلی محفل میں تمہیں ہی موضوع بنا سکیں، تم رو کر ہلکے ہو جاتے ہو،اور وہ تمہاری کمزوری یاد رکھ لیتے ہیں، تم اعتماد کر کے راز بتا دیتے ہو، اور وہ اسی راز کو تمہارے خلاف ہتھیار بنا لیتے ہیں، دنیا میں ہمدرد کم ہیں، تماشائی زیادہ، لوگ تمہاری کہانی سنیں گے، "افسوس" کہیں گے، اور پھر اپنی زندگی میں واپس چلے جائیں گے، زخم تمہارا رہے گا، درد تمہارا ریے گا، مگر کہانی ان کی محفل کا موضوع بن جائے گی، ہر کسی کے سامنے دل کھولنا خود کو سستا کرنا ہے، عزت نفس کا تقاضا یہی ہے کہ تم اپنے درد کو ہر دروازے پر نہ رکھو، کچھ باتیں صرف اللہ کے لیے رکھو، وہ سنتا ہے، وہ سمجھتا ہے، اور وہ کبھی تمہاری بات آگے نہیں بتاتا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بلکل تنہا ہو جائے، مطلب یہ کہ چناؤ کرو، وہی شخص سننے کے قابل ہے جو تمہارے گرنے پر ہنسے نہیں، بلکہ تمہیں اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھائے،باقی لوگوں کے لیے مسکرانا سیکھو، اپنا درد، اپنی کمزوری، اپنی شکست _ یہ تمہارا سرمایہ ہیں، تماشہ نہیں، جو چیز سب کے سامنے رکھ دی جائے، اس کی قدر ختم ہو جاتی ہے.